ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی اور مکہ معاہدہ ایران کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے اور اس پر ایران کو کوئی اعتراض نہیں کیونکہ اس سے خطے میں امریکی اثر و رسوخ میں کمی آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو بیرونی مداخلت کے بغیر اپنی سیکیورٹی مضبوط بنانی چاہیے اور خلیجی ممالک کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینی چاہیے۔
امریکا سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے واضح کیا کہ فی الوقت امریکا کے ساتھ براہِ راست کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے تاہم ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ تنگہ ہرمز کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ایران کا گزرنے والے بحری جہازوں پر کوئی فیس عائد کرنے کا ارادہ نہیں ہے اور ایران و عمان کے درمیان راہداری کے نقشے اور بارودی سرنگیں ہٹانے کے تکنیکی امور پر مثبت بات چیت جاری ہے، تاہم امریکی بحری ناکہ بندی ختم نہ ہونے تک یہ راستہ مکمل طور پر محفوظ اور بحال نہیں ہو سکتا۔