سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک افواج کا آپریشن جاری

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک افواج کا امدادی کاموں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران دادو میں لوگوں کے انخلاء کیلئےپاک بحریہ کے 2 ہوور کرافٹس بھی سرگرم عمل ہیں۔

ترجمان پاک بحریہ کے مطابق خیرپور ناتھن شاہ کے گوٹھ احمد خان چانڈیو سے 23 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ راجن پور، ڈیرہ اسماعیل خان، میرپور خاص، سکھر، سانگھڑ اور سجاول میں بھی آپریشن جاری ہے۔

پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹر اور کشتیاں بھی لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچا رہی ہے۔ امدادی ٹیمیں متاثرین کو راشن، طبی امداد اور ادویات بھی دے رہی ہیں۔

پاکستان نیوی کی ڈائیونگ اور ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیوں کا کے پی اور سندھ کے مختلف علاقوں سمیت ملک بھر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے۔

پاک بحریہ کی امدادی ٹیمیں ہوائی اثاثے، موٹرائزڈ کشتیاں اور جان بچانے والے سازوسامان کے ساتھ ہر طرح کی مدد فراہم کر رہی ہیں اور دور دراز علاقوں میں لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔

امدادی کارروائیوں کے تسلسل کے دوران دادو کے علاقے گوزو سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے 75 افراد کو بچا لیا گیا۔ زہرو گوٹھ میں سیلابی پانی میں پھنسے دیگر 60 افراد کو بھی بحفاظت نکال لیا گیا۔ لدھن گاؤں اور دادو کے دیگر چار علاقوں سے 50 سے زائد افراد کو بچا کر اونچے اور محفوظ علاقوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

پاک فوج کے زیر اہتمام نصر آباد کے علاقے اوستہ محمد میں خیمہ بستی قائم کر دی گئی، جہاں سیلاب متاثرین کو راشن سمیت دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جب کہ فرنٹیئر کور بلوچستان نارتھ چمن اسکاوٹس کی طرف سے سیلاب سے زیادہ متاثر ہونے والے

علاقے توبہ اچکزئی دوبندی میں سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے کیمپ لگایا گیا ہے۔ جہاں 534 مریضوں کے مفت معائنہ سمیت انہیں طبی امداد جب کہ 125 مستحق خاندانوں کو راشن پیک ، 75 کمبل اور 90 پانی کے کین تقسیم کئے گئے۔

قبل ازیں کمانڈنٹ چمن اسکاوٹس کرنل غفار حیدر نے کیمپ کا دورہ کیا اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور سیلاب متاثرین میں راشن اور ضرورت کی اشیاء تقسیم کی۔ کمانڈنٹ اسکاوٹس نے مقامی لوگوں سے بات چیت کی اور ضرورت کی اس گھڑی میں سیلاب سے متاثرہ بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

Comments (0)
Add Comment