پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے غذر میں ایک بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کی پارٹی کا بنیادی انتخابی ہدف اٹھارہویں آئینی ترمیم کے دائرہ کار کو وسعت دے کر گلگت بلتستان کے عوام کو حقِ ملکیت اور حقِ حاکمیت سمیت تمام بنیادی آئینی حقوق فراہم کرنا ہے۔ دنیا نیوز کے مطابق چیئرمین پی پی پی نے خطے کے عوام کے ساتھ اپنی پارٹی کے تاریخی اور نسل در نسل قائم تعلق کا اعادہ کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ آنے والے عام انتخابات میں غذر کی تمام تینوں نشستوں پر پیپلز پارٹی ہی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے دورِ حکومت میں گلگت بلتستان کو الگ شناخت دی تھی، اور اب نئی نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقوق کے حصول کی اس جدوجہد کو آگے بڑھائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی اقتدار میں آکر مقامی آبادی کے لیے زمینوں کے مالکانہ حقوق کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ قانون سازی کرے گی اور خطے کے مطالبات کو وفاق کے سامنے مؤثر انداز میں اٹھایا جائے گا، جبکہ انہوں نے خبردار بھی کیا کہ اگر پی پی پی کو واضح مینڈیٹ نہ ملا تو دیگر سیاسی جماعتیں اس مجوزہ قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
خطے کی معاشی اور سماجی ترقی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے وعدہ کیا کہ صوبہ سندھ کے ماڈل کی طرز پر گلگت بلتستان میں بھی غریب اور مستحق خاندانوں کے لیے ہاؤسنگ اسکیمیں شروع کی جائیں گی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ہی وہ واحد جماعت ہے جس نے ہمیشہ عوام کو روزگار فراہم کیا ہے جبکہ دیگر جماعتوں نے لوگوں کو بے روزگار کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کو پارٹی کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت بننے کے بعد بجٹ میں خطے کے مستحق افراد کے لیے اس پروگرام کے فنڈز میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
صحت اور توانائی کے شعبوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں بین الاقوامی معیار کے جدید اسپتال قائم کیے جائیں گے جہاں شہریوں کو مفت علاج کی سہولت میسر ہوگی تاکہ انہیں علاج کے لیے دور دراز شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے خطے میں پن بجلی کے وسیع تر مواقع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت نئے بجلی گھر قائم کر کے گلگت بلتستان کو توانائی میں خود کفیل بنایا جا سکتا ہے کیونکہ یہ خطہ وفاقی فنڈز پر انحصار کیے بغیر بھی اپنی قدرتی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ترقی کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ خطاب کے اختتام پر انہوں نے ووٹرز پر زور دیا کہ وہ 7 جون کو ہونے والے انتخابات میں پارٹی کے انتخابی نشان “تیر” پر مہر لگائیں، کیونکہ یہ ووٹ محض ایک جماعت کے لیے نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے حقوق اور روشن مستقبل کے لیے ایک فیصلہ کن قدم ثابت ہوگا۔