تہران اور واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق، خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان شدید فوجی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے ایک دوسرے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔ اس سنگین صورتحال کے بعد کویت اور بحرین سمیت پورے خطے میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا دعویٰ ہے کہ امریکی جنگی طیاروں نے ہفتے کی علی الصبح ایران کے علاقوں گوروک اور جزیرہ قشم میں واقع ایرانی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی بحری آمد و رفت کے لیے خطرہ بننے والے 4 ایرانی خودکش ڈرونز کے جواب میں کی گئی، جنہیں مار گرایا گیا ہے۔ سینٹکام نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں مبینہ طور پر ایرانی ریڈار مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز اور خلیجی ممالک کی طرف داغے گئے متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے فضا میں ہی تباہ کر دیا اور اس کارروائی میں کسی بھی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔
دوسری جانب، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی فضائی اڈوں پر جوابی میزائل داغنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحری جہازوں کی موجودگی پر انتباہی فائرنگ کی ہے، جبکہ ایسے 4 آئل ٹینکروں پر بھی فائرنگ کی گئی ہے جو بغیر اجازت آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایران نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی کارروائیاں بند نہ ہوئیں تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا، اور اس کے تمام تر نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔
امریکی فوج کے مطابق ایران نے کل 7 میزائل داغے، جن میں سے 6 کو روک لیا گیا جبکہ ساتواں اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا۔ تاہم، اس صورتحال کے باعث پڑوسی ممالک میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘کونا’ نے تصدیق کی ہے کہ ملکی مسلح افواج کا فضائی دفاعی نظام ہفتے کے روز آنے والے مشتبہ میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے متحرک رہا۔ دوسری طرف بحرین کی وزارتِ داخلہ نے ملک بھر میں خطرے کے سائرن بجا دیے ہیں اور فضائی انتباہ جاری کر دیا ہے۔ کشیدگی کے اسی ماحول میں امریکی فوج نے بحرِ ہند میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ‘ڈاوینا’ نامی ایک ایسے تیل بردار بحری جہاز کو روک کر اس کی تلاشی لی ہے جس پر کسی ملک کا پرچم نہیں تھا اور وہ عالمی پابندیوں کی زد میں تھا۔