اگر آپ اپنے دماغ کو جوان رکھنا چاہتے ہیں تو اپنی غذا میں ایک مزیدار چیز کا اضافہ کرلیں۔
درمیانی عمر میں مچھلی کھانے والے افراد اپنے دماغ کو تنزلی سے بچا سکتے ہیں۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
ٹیکساس یونیورسٹی کی تحقیق میں درمیانی عمر کے 2200 افراد کو شامل کیا گیا تھا اور ان کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا تھا۔
تحقیق میں دیکھا گیا کہ اس عمر کے افراد میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔یہ جز مچھلی یا مچھلی کے تیل سے بنے سپلیمنٹس میں کافی مقدار میں ہوتا ہے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد کے خون میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ان میں یادداشت کی کمزوری کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ وہ مسائل کو حل کرنے کے حوالے سے دیگر کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔
محققین نے بتایا کہ ہفتے میں کم از کم 3 گرام مچھلی کھانے سے درمیانی عمر میں دماغ کو تیز رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
زیادہ بڑے hippocampus سے دماغی تنزلی کے مرض ڈیمینشیا سے بچنے اور عمر بڑھنے کے باوجود دماغ کو جوان اور صحت مند رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نتائج سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس عادت سے درمیانی عمر کے افراد کے ساتھ ساتھ جوان افراد بھی اپنی دماغی صلاحیتوں کو بہتر بناسکتے ہیں۔
اس تحقیق میں شامل افراد کو خون میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی مقدار کے مطابق 4 گروپس میں تقسیم کیا گیا تھا۔
3 گروپس میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی مقدار کافی زیادہ تھی اور ان کا hippocampus بھی بڑا تھا، جس سے عمر بڑھنے کے ساتھ یادداشت کو مستحکم رکھنے کے فائدہ کا علم ہوا۔
تحقیق کے دوران عمر کے ساتھ ساتھ دیگر عناصر جیسے ہائی بلڈ پریشر کو بھی مدنظر رکھا گیا جو دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
تحقیق کے مطابق مچھلی میں موجود فیٹی ایسڈز سے دماغ کو نقصان دہ ورم کو کم رکھنا ممکن ہوتا ہے جس سے مختلف امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج جرنل نیورولوجی میں شائع ہوئے۔