اذیت ناک زندگی، دردناک موت اور عبرتناک انجام
میری 25 سالہ صحافتی زندگی کی سب سے بری اور خطرناک خبر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک اعلی افسر نے مجھے دی ۔ جو کہ ایک ملعون نوجوان کی آب بیتی ہے۔ نوجوان نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ :
’’ میں انٹرنیٹ کا استعمال کرتا تھا جس پر اسے ایسے لنک موصول ہوئے جس پر فحش مواد تھا جس کو دیکھنے کا میں عادی ہو گیا۔ کچھ عرصہ بعد فحش مواد دیکھنے کے دوران مجھے ایسے لنک موصول ہوئے جن پر اسلامی گستاخانہ مواد تھا۔ کچھ عرصہ بعد میں گستاخانہ مواد دیکھنے کا عادی ہو گیا اور ایسے وٹس اپ گروپ اور ویب سائیٹ کا عادی ہوگیا جن پر گستاخانہ مواد بھیجا جاتا تھا اور میں نے ان کو شیئر کرنا شروع کردیا اور اس کا عادی ہوگیا۔ مجھ سمیت ہزاروں پاکستانی بدنصیب بھی اس مکروہ فعل کے عادی ہو چکے ہیں۔ گستاخانہ مواد بھیجنے کے جرم میں مجھ پر مقدمہ درج ہوا اور عدالت سے سزائے موت مل گئی۔ اب میں ایک اذیت ناک زندگی گزار رہا ہوں، دردناک موت کا منتظر ہوں اور میرا انجام عبرتناک ہے۔‘‘
اعلی افسر نے انکشاف کیا کہ تمام گرفتار ملزمان کا بھی یہی موقف ہے کہ فحش مواد والی ویب سائیٹس سے گستاخانہ مواد والی ویب سائیٹس پر منتقل ہوئے اور گستاخانہ موادشیئر کرنے کے عادی ہوئے۔ سینکڑوں درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، متعدد گرفتار ہیں۔مگر حکمران اور اعلی حکام اس مسئلہ کو چھپانے میں مصروف ہیں جو کہ استعماری قوتوں کی منظم سازش ہے۔