vni.global
Viral News International

کسی کو تاحیات نااہل کرنا اسلام کے خلاف ہے، سپریم کورٹ

اگر کوئی شخص گناہ سے توبہ کر لے تو معافی مل سکتی ہے، چیف جسٹس کے ریمارکس

سپریم کورٹ میں تاحیات نااہلی کیس کی سماعت میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دئیے کہ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے،تاحیات نااہلی کا فیصلہ اسلامی اصولوں کیخلاف ہے کیونکہ تاحیات نااہلی کا فیصلہ اعمال نہیں انسان کو برا کہہ رہا ہے

جسٹس منصور علی شاہ بولے اس بات کا کیا ثبوت ہوگا کہ کس نے توبہ کی ہے کس نے نہیں، عدالتی معاون فیصل صدیقی نے استدعا کی عدالت آئندہ انتخابات تک ہی نااہلی کو محدود رکھے،

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس میں کہا آئندہ انتخابات تک ڈیکلریشن ازخود کیسے ختم ہوجائے گا؟کاغذات نامزدگی مسترد ہو جائیں تو ڈیکلریشن لیکر امیدوار کہاں جائے گا؟عدالتی معاون کے دلاٸل مکمل ہونے پر سپریم کورٹ کی سماعت کل نو بجے تک ملتوی کردی گئی

چیف جسٹس قاضی فائزعیسی کی سربراہی میں سات رکنی لارجربنچ نے تاحیات نااہلی کیس کی سماعت کی
عدالتی معاونین عزیر بھنڈاری ، فیصل صدیقی دلائل دیئے جبکہ ریما عمر نے تحریری جواب جمع کرایا
چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا جھوٹ بولنے والا تاحیات نااہل اور بغاوت کرنے والا پانچ سال نااہل کیسے ہوسکتا ہے؟
اس نکتے کی طرف کسی کا دیہان نہیں گیا،پارلیمنٹ نے یہ ترامیم مرضی سے نہیں کیں، ان پر تھوپی گئی ہیں،پورے پاکستان کو یرغمال بنانے والے دوبارہ الیکشن لڑ رہے ہیں،آئین میں یہ سب چیزیں کہاں سے آئیں یہ کوئی نہیں بتا رہا، ڈکٹیٹر کہتا ہے یہ ترامیم کرو نہیں تو میں پچیس سال بیٹھا رہوں گا،آمر کو ہٹانے کیلئے پارلیمان اس کی بات مان لیتی ہے،پاکستان میں اپنی غلطی پر معافی مانگنے کا کوئی تصور ہی نہیں ہے،آرٹیکل 17 ہر شہری کا ایک بنیادی حق ہے،
اگر بنیادی حق اور آئین کی دوسری شق میں تضاد ہو تو کس کو ترجیح دی جائے گی؟
فرض کریں تاحیات نااہلی کا فیصلہ نہ ہوتا تو کیا آرٹیکل 17 کی بنیاد پر ہم فیصلہ کر سکتے ہیں؟
شکر ہے آرٹیکل 62 ون ایف کی اہلیت کا معیار ججز کیلئے نہیں ہے،
اگر ججز کیلئے ایسا معیار ہوتا تو کوئی بھی جج نہ بن سکتا،
میں تو ڈر گیا ہوں شکر ہے پارلیمان نے یہ معیار ہمارے لئے مقرر نہیں کیا،
تاحیات نااہلی کا فیصلہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم دونوں ختم ہوگئے تو نااہلی کیسے ہوگی؟
عذیربھنڈاری بولے اٹھارہویں ترمیم کسی نے تھوپی نہیں ہے، میں نے جتنا ڈکٹیٹر پر تنقید کی اتنی 18ویں ترمیم پر کی
پارلیمان الیکشن ایکٹ میں ترمیم کرکے نااہلی کی مدت کم کرنے کی مجاز نہیں تھی
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس میں کہا ایک شخص کوالیفائی کر کے رکن بن گیا اور بعد میں وہ خراب ہو گیا تو کیسے نکالیں گے؟نااہل کرنے والے آرٹیکل 63 میں تو 62 ون ایف کا زکر نہیں
عزیر بھنڈاری بولے ایسی صورت میں کو وارنٹو کی رٹ لائی جائے گی،ڈیکلیریشن کووارنٹو میں بھی دیا جا سکتا ہے، خواجہ آصف کیس میں ایسا کووارنٹو دیا گیا، آرٹیکل 62 ون ایف کیلئے سول کورٹ سے ڈیکلریشن لینا لازمی ہے، ہر عدالتی فیصلہ منتخب نمائندے کیخلاف ڈیکلریشن نہیں ہوسکتا
چیف جسٹس نے کہا لوگوں اور پارلیمنٹ نے سوچ سمجھ کر قانون سازی نہیں کی ،62ون ایف کی ٹیونگ کی گٸی،
جبرا چیزیں ، ایک شخص کی مرضی پورے پاکستان پر حاوی ہو گٸی،
پاکستان کو یرغمال بنانے والوں نے معافی مانگی کسی سے؟ ،
یہ چیزیں مارشل لا اور ڈکٹیٹرز کے دور کے دوران آٸی
وکیل کے منہ سے ڈکٹیٹر شپ کیخلاف کوٸی بات نہیں نکلتی آٸین میں یہ جو چیزیں آٸی کس راستے سے آٸی
عزیز بھنڈاری بولے جس کے ہاتھ میں بندوق ہے میں ان سے تو نہیں لڑ سکتا
عدالتی معاون عزیر بھنڈاری کا کہنا تھا
پارلیمنٹ اٹھارہویں ترمیم کرنے بیٹھی تو 62ون ایف کو نہیں چھیڑا تھا، پارلیمنٹ کو علم بھی تھا کہ 62 ون ایف کی ایک تشریح آچکی ہے، سمیع اللہ بلوچ کیس کے کچھ پہلو ضرور دوبارہ جائزے کے متقاضی ہیں،سمیع اللہ بلوچ کیس نااہلی کے مکینزم کی بات نہیں کر رہا، 18ویں ترمیم کے بعد بھی کئی آئینی ترامیم ہوئیں،کسی بھی آئینی ترمیم میں آرٹیکل 62ون ایف کی بات نہیں ہوئی،یہ غالب جیسی بات ہے کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا،
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے
ایک فارم میں تبدیلی پر پورا پاکستان بند کر دیا گیا تھا،شاید اس لئے اس معاملے کو چھوڑ دیا گیا ہو، ریاست نے سوچا ہو گا ان لوگوں سے کون ڈیل کرے گا،
عدالتی معاون فیصل صدیقی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ نااہلی کی مدت کا تعین کر رہا ہے،
عدالت نے دیکھنا ہے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو ختم کرنے کی نیت سے کی گئی یا نہیں،
اگر الیکشن ایکٹ کی ترمیم برقرار رکھنی ہے تو سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو ختم ہونا ہو گا،
نااہلی کی مدت، طریقہ کار اور پروسجر کا تعین ہونا ضروری تھا،
پارلیمنٹ سادہ قانون سازی سے سپریم کورٹ کی آئینی تشریح ختم نہیں کر سکتی،
پارلیمنٹ نے نااہلی کی مدت کم سے کم پانچ سال کرتے وقت الیکشن ایکٹ ترمیم کا اطلاق اٹھارویں ترمیم سے کیا،
سمیع اللہ بلوچ نے ایسا فیصلہ دیا جس پر آئینی خلا تھا،
فیصل صدیقی نے تاحیات نااہلی والے سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو ختم کرنے کی حمایت کی
کہا الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا مقصد سمیع اللہ بلوچ کیس کو “اووررائٹ ” کرنا تھا،
ترمیم سے نااہلی کی مدت زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی گئی،
سمیع اللہ بلوچ فیصلہ اس لیے آیا کہ آئینی خلا پر ہو سکے،
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے آئین میں خلا کہ صورت میں یہی کیوں سمجھا جاتا ہے کہ اس کو پر کرنے کے لیے عدالتی تشریح ہی ہو گی؟
آئین جن چیزوں پر خاموش ہے اس کا مقصد قانون سازی کا راستہ کھلا رکھنا بھی ہو سکتا ہے نا کہ عدالتی تشریح،
آئین میں تو قتل کی سزا بھی درج نہیں اس لیے تعزیرات پاکستان لایا گیا،
فیصل صدیقی نے کہا آرٹیکل 62 ون ایف میں ڈیکلریشن دینے کا کوئی طریقہ کار نہیں دیا گیا،
بے ایمانی کا ڈیکلریشن آنے تک ہر شخص ایماندار تصور ہوگا،
فیصل واوڈا اور تاحیات نااہلی کے فیصلوں میں کوئی تضاد نہیں ہے،
فیصل واوڈا کیس میں نااہلی کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا,عدالت نے قرار دیا تھا کہ الیکشن کمیشن عدالت نہیں ہے،
سمیع اللہ بلوچ اور فیصل واوا کے کیسز میں کوٸی تضاد نہیں،
عدالتی معاون فیصل صدیقی کے دلاٸل مکمل ہونے پر سپریم کورٹ کی سماعت کل نو بجے تک ملتوی کردی گئی

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.