vni.global
Viral News International

پاکستانی سرکار اور سرکاری افسروں کے لیے سرکاری خزانہ خالی نہیں ہوتا

کالم:محمد ذوالفقار پشاوری

آج کل آپ کو ایک خبر اور اس پر تبصرے ہر ٹی وی چینل پر سننے کو ملیں گے کہ پاکستانی خزانہ خالی ہونے کے قریب ہے اور ہم عنقریب دیوالیہ ہو جائیں گے اوراس خطرے سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہمارے دوست ممالک اور عالمی قرض دینے والے ادارے سود پر ہمیں مزید قرض دیں۔ ایک طرف تو قومی خزانے کے یہ حالات ہیں اور دوسری طرف پنجاب کی صوبائی حکومت اپنے وزیر اعلی کے لئے 6ارب روپے کا نیا جہاز لینے کے انتظام میں مصروف تھی جبکہ صوبہ KPکی حکومت قانون سازی کے ذریعہ سرکاری ہیلی کاپٹر کو چنگ چی رکشے میں تبدیل کر چکی تھی اور وہاں کا وزیر اعلی، وہاں کے وزراء اور سرکاری افسر سرکاری کاموں کے نام پر سرکاری ہیلی کاپٹر بغیر کرایہ دیئے استعمال کر سکتے تھے۔ ویسے تو آپ کوہر حکومت اور اپوزیشن میں اینٹ کتے کا بیر نظر آئے گا لیکن تنخواہ کے اضافے کی بات ہو یا مراعات میں اضافے کی آپ کو یہ ایک جان دو قالب نظر آئیں گے۔
آپ حکومت اور حکومتی نمائندوں کو چھوڑیں، صرف سرکاری افسران پر نظر ڈالیں آپ کو جان کر حیرانی ھوگی کہ ملک کے تقریبا 60 فیصد ریٹائرڈ بیوروکریٹ اپنے بال بچوں سمیت امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا سکونت اختیار کر چکے ہیں اور جو ابھی ریٹائرنہیں ہوئے ان کے بال بچے وہاں شفٹ ہو چکے ہیں اور جیسے ہی یہ بھی ریٹائر ہوں گے وہاں شفٹ ہو جائیں گے۔ کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں کہ آپ کے پاس بال بچوں سمیت ان ملکوں میں رہنے کے لئے دولت کہاں سے آئی ہے۔ جو ظاہر ہے انہوں نے اپنے اختیارات کے غلط استعمال سے کمائی ہے۔
جناب زرداری صاحب اور نواز شریف صاحب کو تو چھوڑیں ان کے پاس تو شروع سے قارون کا خزانہ تھا۔ آپ بلوچستان کے اس سیکرٹری خزانہ کو یاد کر لیں جس کے گھر سے اتنی دولت برآمد ہوئی تھی جسے گننے سے مشینوں نے انکار کر دیا تھا۔ بعد میں ایسا ہی ایک خزانہ سندھ کے ایک سرکاری افسر کے گھر سے بھی برآمد ہوا تھا جسے گننے سے مشینوں نے انکار کر دیا تھا۔ اب ایسے ہی دو افسروں کا ذکر خیر دوبارہ اخبارات کی زینت بنا ہے۔ دونوں ڈپٹی کمشنر ہیں ایک نوشہرو فیروز کا اور دوسرا مٹھی کا، دونوں کا تعلق سندھ سے ہے۔ دونوں نے سندھ موٹروے پراجیکٹ سے 2 ارب سے زیادہ کی رقم پر ہاتھ صاف کیا ہوا ہے یہ دونوں حضرات کرپشن کی دیگ کے وہ چاول ہی جو ساری دیگ کے حالات بتا رہے ہیں۔ اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ سرکار اور سرکاری افسروں کے کندھے مضبوط ہوں تو وہ جب چاہیں سرکاری خزانے سے اربوں روپے پار کر سکتے ہیں۔ یہ دونوں حضرات تو خیر سے ڈپٹی کمشنر ہیں ہمارے ہاں تو پٹواریوں کے گھر سے اتنی دولت برآمد ہوئی ہے جسے گننا مشکل تھا اور اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں احتساب اور انصاف کا کوئی مربوط اورمضبوط نظام نہیں ہے جس سے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ اگر ایسے لوگ کسی وجہ سے پکڑے بھی جائیں تو بڑے کم عرصے میں پیسے دے دِلا کر دوبارہ اپنے عہدوں پر بحال ہوجاتے ہیں اور لوٹ مار کا سلسلہ دوبارہ وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں پر انہوں نے چھوڑا ہوتا ہے۔ ان کے سرپرست کبھی انہیں اکیلا نہیں چھوڑتے،یہ مل بانٹ کر کھاتے ہیں۔ آج ملک میں 75سالوں سے ہونے والی اِسی لوٹ مار کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اور ساری قوم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے اِس تباہی کا انتظار کر رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اِن لوگوں کو یہ ملک مفت میں ملا ہے۔ یہاں کے لوگوں نے اس ملک کے حصول کے لئے کوئی بڑی قربانی نہیں دی تھی یہ چودہ اگست کی رات 12 بج کر ایک منٹ پربیٹھے بٹھائے پاکستانی بن گئے تھے اور جن لوگوں نے اس ملک کی آزادی کے لئے جان ومال قربان کیا تھا وہ آج بھی ہندوؤں کے زیر تاب ہیں اور ان کا مال اور عزتیں دونوں غیر محفوظ ہیں۔
پاکستان کی قدروقیمت جاننے والے اہل نظر اور اہل فکر کی ملک کے حکمرانوں اور عوام دونوں سے اپیل ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں۔ پاکستان کو لوٹ کا مال سمجھ کر نہ لوٹیں۔ آپ اور آپ کے بال بچے تو بیرون ممالک میں اپنی زندگیاں انجوائے کر رہے ہیں یہاں پر رہنے والے غریب عوام کے بچوں سے کم از کم آزادی اور جینے کا حق نہ چھینیں اور یہ مت بھولیں کہ اس جہان کے بعد ایک جہان اور بھی ہے جہاں کی عدالت کے قوانین میں کوئی ترمیم نہیں کی جاسکتی نا وہاں کسی کے کالے کرتوت چھپیں گے بلکہ کالے کرتوتوں کے بدلے منہ کالا ہوگا اور وہ سیاہی ابدی ہوگی۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.