vni.global
Viral News International

نیب نے کتناکمایا،کتنا کھایا اور کتنا لٹایا؟ عوام کا سوال

کالم :محمد ذوالفقارپشاوری

وطن عزیز پاکستان میں نہ تو کرپشن کی کمی ہے نہ اینٹی کرپشن کے اداروں کی، اور ان اداروں کے علاوہ تمام سیاسی جماعتیں اور لیڈران بشمول فوجی ڈکٹیٹران احتساب کے دعویدار ہوتے ہیں۔ سنا ہے ایوب خان صاحب کا پہلا مارشل لاء لگا تو شہروں کے ندی نالے کرپشن کے مال اور ملاوٹ شدہ اشیاء گرائے جانے سے بند ہوگئے تھے۔ بعد میں ان کے 10سالہ دور میں دوبارہ کرپشن کا بازار گرم رہا۔ لیکن پاکستان میں صحیح معنوں میں کرپشن میں ترقی ضیاء صاحب کے دور میں ہوئی۔ اُن کے دور میں پہلی مرتبہ شوریٰ کے ممبروں کو ترقیاتی فنڈز کے نام سے کروڑوں روپے تقسیم کیے گئے اور افغان جنگ کے نام پر آتے ہوئے اربوں ڈالر کئی پاکستانی خاندانوں کو ارب پتی بنا گئے۔ اُن کے ہی دور میں جنرل جیلانی نے ایک محفل میں کسی ویٹر کا کُلاہ نواز شریف کے سر پر رکھ کر انہیں پنجاب میں وزیر بنایا تھا جو بعد میں تین مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم اور اربوں کی دولت کے مالک بنے۔ جناب نواز شریف صاحب کا تعلق پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کی طرح کسی نواب خاندان سے نہیں ہے۔ اُن کا خاندان جاتی امرا نامی چھوٹے سے گاؤں سے ہجرت کر کے لاہور آیا تھا اور اُس نے اپنی کاروباری زندگی لوہے کی ایک بھٹی سے شروع کی تھی لیکن آج مالی طور پر شریف خاندان کی جو حیثیت ہے لگتا ہے ان کی لوہے کی نہیں سونا بنانے کی بھٹی تھی۔ پاکستان کا پہلا خاندانی طور پر نواب وزیر اعظم لیاقت علی خان مرتے وقت بے گھر کیوں تھا اور بعد میں اس کا بیٹا سرکاری ہسپتالوں میں علاج کرواتے ہوئے کیوں فوت ہوا اور اُن کے بعد آنے والے وزیراعظم نواز شریف کی آل اولاد کے پاس لندن میں اربوں کی جائیدادیں کہاں سے آئیں۔ جس دن پاکستانی عوام کو اِن سوالات کے جوابات مل گئے اُس دن ملک سے کرپشن ختم ہو جائے گی۔
شریف خاندان کی طرح ہی جب بھٹو خاندان بھٹو زرداری خاندان میں تبدیل ہوا تو اُس خاندان نے بھی دولت کمانے میں دن دُگنی رات چُگنی ترقی کی۔ اِس خاندان کی بیرون ملک جائیدادوں میں بھی اضافہ ہوا۔ لندن کا سرئے محل بھٹو زرداری خاندان بننے کے بعد کی نشانی ہے۔ جس طرح شریف خاندان کی تین حکومتیں کرپشن کے الزامات کی وجہ سے ختم ہوئیں۔ اِسی طرح بے نظیر صاحبہ کی دونوں حکومتیں بھی کرپشن کے الزامات کی وجہ سے ہی ختم ہوئیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ بے نظیر صاحبہ کی دوسری حکومت اُن کے اپنے صدر جناب فاروق لغاری صاحب نے اُن پر کرپشن کا الزام لگا کر ختم کی تھی۔ نواز شریف صاحب کی پہلی حکومت جنرل کاکڑ نے بغیر کسی مارشل لاء کے صدر اسحاق سمیت ختم کی اور دونوں کو گھر بھجوایا جبکہ اُن کی دوسری حکومت جنرل پرویز مشرف نے اپنے ہٹائے جانے کے بعد مارشل لاء لگا کر ختم کی اور اُن کی تیسری حکومت پانامہ کے ہنگامے کے بعد عمران خان کے دھرنے کی وجہ سے ختم ہوئی۔ نواز شریف ایک تو قسمت کے دھنی ہیں دوسرا وہ اپنے اقتدار کے دوران ہی اپنے بھاگنے کے لیے تین راستے ضرور بنوا کر رکھتے ہیں اور مصیبت کی گھڑی میں ملک سے باہر نکل جاتے ہیں۔ مشرف دور میں انہوں نے پاکستان سے نکلنے کے لیے سعودی ذرائع کو استعمال کیا اور پارٹی کو بتائے بغیر مشرف سے 10سال تک وطن واپس نہ آنے کی ڈیل کرکے راتوں رات ساری فیملی سمیت سعودی عرب جا کر شاہی مہمان بنے رہے۔ تیسری مرتبہ حکومت سے نکلے تو جیل گئے اور جیل میں اتنے بیمار ہوئے کہ ان کے سب سے بڑے سیاسی حریف عمران خان کی کابینہ نے اشکبار آنکھوں سے انہیں باہر بھجوانے کی سفارش کی اور وہ اپنے بھائی کی ضمانت پر عدالت سے 8 ہفتوں کے علاج کا پروانہ لے کر 38 مہینوں سے زیادہ ہوگئے ہیں وطن آنے کا نام نہیں لے رہے اور لندن کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹ میں بیٹھ کر مزے سے کاروبارِ زندگی اور کاروبارِ سیاست دونوں چلا رہے ہیں۔ جبکہ اُن کے بھائی جناب شہباز شریف صاحب بطور وزیراعظم قانون سازی کرکے نواز شریف صاحب کی واپسی کا بندوبست کر چکے ہیں اور ہوسکتا ہے وہ چوتھی مرتبہ بھی وزیراعظم بن جائیں۔ واللہ اعلم بالصواب
جنرل پرویز مشرف صاحب نے اپنے دورِ اقتدار میں نیب کا ادارہ جنرل امجد کی سرپرستی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی دور کی کرپشن کو ڈھونڈنے اور پیپلز پارٹی سے پیٹریاٹ کا ایک گروپ نکالنے کے لئے بنایا تھا تاکہ وہ اپنی پسند کی حکومت بنا سکیں۔ لیکن ساتھ ہی نیب میں پِلی بارگین نام کا ایک دروازہ بھی بنوایا کہ کرپشن کرنے والا کوئی شخص چاہے تو کرپشن سے حاصل کی گئی رقم کا ایک حصہ قومی خزانے میں جمع کروا کے کرپشن کیس سے بری ہوجائے۔ ریٹائرڈ نیول چیف منصورالحق اس کی پہلی مثال تھے۔ وہ بطور مجرم بیرونِ ملک سے گرفتار ہوکر پاکستان آئے لیکن یہاں آتے ہی انہیں شاندار گیسٹ ہاؤس میں رکھا گیا ان سے ٹرمز اینڈ کنڈیشن سیٹ کی گئیں اور انہوں نے کرپشن کی رقم میں سے ایک طے شدہ رقم نیب کو واپس کی اور بریت پائی اور باقی بچ جانے والی رقم کو کفایت شعاری سے استعمال کرتے ہوئے باقی زندگی عزت اور سکون سے گزاری۔ اس طرح بہت سے لوگوں نے نیب کی اس پالیسی سے فائدہ اٹھایا اور کچھ سرکاری افسر تو بعد میں واپس اپنے عہدوں پر بھی گئے تاکہ دوبارہ کرپشن کرکے پلی بارگین کا فائدہ اٹھائیں۔ جنرل مشرف کے جانے کے بعد پیپلز پارٹی اور ن لیگ دونوں نے نیب کو جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی بنائے رکھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں جماعتوں پر بنے ہوئے 90% نیب کے کیسز دونوں نے ایک دوسرے پر بنائے تھے لیکن اب موقع ملتے ہی دونوں جماعتوں نے پی ڈی ایم حکومت میں باہمی اتفاق سے نیب قوانین میں تبدیلی کرکے خود کو نیب کیسز سے آزاد کر لیا ہے جبکہ آج کل نیب نے اپنی توپوں کا رخ پی ٹی آئی کی طرف کیا ہوا ہے القادر ٹرسٹ کرپشن کیس اور توشہ خانہ کیس پی ٹی آئی کے گلے کی پھنسی ہڈی بنے ہوئے ہیں اور 9مئی کے واقعہ کی وجہ سے اُس کے پاس اسٹریٹ پاور بھی نہیں رہی کہ وہ مریم نواز صاحبہ کی طرح نیب کے دفتر پر پتھراؤ کر کے اور مولانا فضل الرحمن کی طرح نیب پر ڈنڈا برداروں کا رعب ڈال کر نیب سے جان چھڑوائے۔
نیب خود کیا کر رہی ہے اس کا اندازہ آپ نیب کے ایک اہلکار بریگیڈئیر (ر) مصدق عباسی کے اس بیان سے لگا لیں جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ صرف منی لانڈرنگ کیسز کھنگالنے کے لئے ایک ملین ڈالر خرچ کیے گئے جن کا نتیجہ صِفر نکلا۔ یعنی ایک ملین ڈالر ہوا میں اُڑا دیے گئے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے شہباز شریف صاحب نے بطور وزیر اعلیٰ 4ارب روپے صاف پانی اسکیم پر لگائے اور ایک بوند صاف پانی عوام کو نہ ملا۔ اربوں روپے سستی روٹی کے نام پر تندوروں میں جھونک ڈالے اور عوام بھوکی ہی رہی اور اب بطور وزیر اعظم80ارب روپے سے زیادہ رقم رمضان میں مفت آٹا اسکیم میں ضائع کیے اور عوام کو موت اور خواری کے علاوہ کچھ ہاتھ نہ آیا۔ نیب تو ایک ادارہ ہے کیا کماتی،کیا کھاتی اور کیا لٹاتی ہے کم از کم اِس کا پتا تو عوام کو ہونا چاہیے۔ پی ٹی آئی دور میں نیب کے چیئرمین آئے دن عوام کو یہ بتایا کرتے تھے کہ ہم نے اتنے ارب روپے ریکور کر لیے لیکن یہ کبھی نہیں بتاتے تھے کہ کتنے ارب کی کرپشن معاف کر کے یہ ریکوری کی ہے اور نا ہی کبھی نیب نے یہ حساب دیا ہے کہ وہ کرپشن کیسزز کھنگالنے کے لئے قومی خزانے کو کتنا چونا لگا چُکی ہے۔ یہاں پر بھی 10روپے خرچ کر کے 2روپے کمانے والا کھیل تو نہیں کھیلا جا رہا۔ اس لیے پاکستانی عوام حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ شفاف طریقے سے نیب کا آڈٹ کروائے کہ اُس نے آج تک کیا کمایا، کیاکھایا اور کیا لگایا ہے۔ عوام کے ٹیکس کے پیسے مالِ مفت تو نہیں جسے جو چاہے ہوا میں اُڑا دے۔ عوام کے پاس زہر کھانے کے پیسے نہیں لیکن عوامی حکومتیں اور حکومتی ادارے عوام کو لوٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ان کے دلوں سے خوفِ خدا ختم ہو گیا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.