vni.global
Viral News International

طوفان کا خدشہ: سندھ کی ساحلی پٹی سے شہریوں کی منتقلی شروع

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان بائپر جوائے مزید شدت اختیار کرگیا جس کے بعد ممکنہ خطرات کے پیش نظر ٹھٹھہ اور بدین کی ساحلی پٹی سے لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کردی گئی۔

وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ شاہ بندر، جاتی اورکیٹی بندرکے دیہات سے 50 ہزار افرادکا انخلا کیا جائے گا،  بدین کےزیرو پوائنٹ کےگاؤں سے 2 ہزار افراد کی محفوظ مقامات پر منتقلی کردی گئی ہے۔

حکام کاکہنا ہےکہ طوفان ٹکرانے سے سمندر میں 4  تا 5 میٹر اونچی لہریں اٹھیں گی، پانی بہت آگے آجائےگا جبکہ 17 سے 18 جون تک طوفان کا اثر کم ہوجائے گا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری طوفان گزشتہ 12 گھنٹوں سے شمال کی جانب بڑھ رہا ہے جو کراچی کے جنوب سے 600کلو میٹر اور ٹھٹھہ کے جنوب سے 580 کلومیٹر دور ہے، طوفان کے سبب سمندر میں ہوا کی رفتار 180سے 220 کلو میٹرفی گھنٹہ کےدرمیان ہے، 14 جون تک سمندری طوفان شمال کی جانب بڑھےگا اور 15 جون کی دوپہرکو طوفان جنوب مشرقی سندھ اور بھارتی گجرات کو عبورکرےگا، 15 جون کی صبح تک سمندری طوفان کیٹی بندر اور بھارتی گجرات کے درمیان ٹکرا سکتا ہے۔

محکمہ موسمیات کا بتانا ہےکہ سسٹم کے مرکز کےگرد لہریں 35 سے40 فٹ تک بلند ہورہی ہیں جب کہ طوفان سے کیٹی بندر پر لہریں 8 سے 12 فٹ بلند ہوسکتی ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان سے ساحلی پٹی پر آندھی اور گرج چمک کےساتھ موسلادھار بارش ہوسکتی ہے، جنوب مشرقی سندھ میں کچھ مقامات پرشدید بارش بھی ہوسکتی ہے جہاں ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھرپارکر اور عمرکوٹ میں 13 سے17 جون تک موسلادھاربارش کا امکان ہے جب کہ ان علاقوں میں ہواؤں کی رفتار 80 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ رہ سکتی ہے۔

اس کے علاوہ ٹنڈومحمد خان، ٹنڈو الہیار اور میرپورخاص میں بھی میں 13 سے16 جون کے دوران موسلادھار بارش متوقع ہے۔

محکمہ موسمیات کا بتانا ہےکہ کراچی، حیدرآباد میں 13سے16 جون کےدرمیان آندھی اور گرج چمک کے ساتھ موسلا دھاربارش کا امکان ہے، اس دوران ہوائیں 60 سے 80 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتی ہیں جس سے کمزور عمارتوں، تعمیرات اور کچے مکانات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

محکمہ موسمیات نے ماہی گیروں کو 17 جون تک کھلے سمندر میں نہ جانے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

چیف میٹرولوجسٹ کی گفتگو

علاوہ ازیں جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے چیف میٹرولوجسٹ سردارسرفراز نے بتایا کہ طوفان کا رخ طے ہوچکا ہے کہ وہ شمال مشرق کی جانب ہی رہے گا، طوفان 15 جون کو کیٹی سے ٹکرائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جن علاقوں سے طوفان گزرتا ہے وہاں 300 سے 400 ملی میٹر بارش متوقع ہوتی ہے اسی  لیے جنوب مشرقی سندھ میں ٹھٹھہ، سجاول، بدین، میرپور خاص اور آس پاس کے علاقوں میں شدید بارشیں متوقع ہیں۔

سردار سرفراز کا کہنا تھا کہ طوفان سے کراچی، حیدرآباد، نوابشاہ سانگھڑ اور  ٹنڈو محمد  خان میں تیز بارش متوقع ہے، طوفان کا پھیلاؤ بہت زیادہ ہے اور ہوائیں انتہائی شدید ہیں اس لیے کراچی میں 14 یا 15 جون کو آندھی کے ساتھ بارش ہوسکتی ہے جب کہ 70 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں بھی چل سکتی ہیں۔

چیف میٹرولوجسٹ نے مزید کہا کہ یہ خاصہ طاقتور سسٹم ہے جو کراچی کے قریب سے گزرے گا اس سے شہر میں کم از کم 50 یا پھر 100 ملی میٹر بارش متوقع ہے۔

سمندری طوفان بائپر جوائے کی شدت میں مزید اضافہ

بائپر جوائے کے سبب بھارتی شہر ممبئی کے ساحل پر لہریں بلند

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست گجرات میں بھی طوفان بائپرجوائےکے سبب تیز ہوائیں چل رہی ہیں اور سمندر میں لہریں بلند ہیں جب کہ بائپر جوائے کے زیر اثر گجرات کے اضلاع میں 13 سے 15 جون تک شدید بارشیں متوقع ہیں۔

بھارتی میڈیا کا بتانا ہےکہ گجرات کے اضلاع میں13 سے 15جون تک 150 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔

بھارتی محکمہ موسمیات کا بیان

بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان بائپر جوائے 14جون تک ممکنہ طورپر شمال اور شمال مشرق کی طرف بڑھےگا، طوفان سوراشٹر اورکچ کو عبورکرتاہوا15 جون کی دوپہربھارتی ریاست کے علاقےمنڈوی اورکراچی کےدرمیان پہنچےگا۔

بائپرجوائےکے زیر اثر ہواؤں کی رفتار 125سے135کلومیٹر فی گھنٹہ ہونےکا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بائپر جوائےکے زیراثرہواؤں کی رفتار 150کلومیٹرفی گھنٹہ تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.