vni.global
Viral News International

سپریم کوٹ ،تاحیات نااہلی کیس کی سماعت مکمل فیصلہ محفوظ

عدالتیں صرف پارلیمنٹ کے بنائے قانون کا جائزہ لے سکتی ہیں کہ قانون آئین کے مطابق درست ہے یا نہیں،چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں سیاسی رہنماوں کی تاحیات نااہلی سے متعلق کیس پر سماعت مکمل ۔سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کی مدت کا تعین کرنے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔

چیف جسٹس قاضی فائیز عیسیٰ نے کہا کوشش کریں گے جلد مختصر حکمنامہ سنائیں، شاید اج مختصر حکمنامہ جاری نہ ہو

۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے عدالتیں قانون نہیں بناتیں،عدالتیں صرف پارلیمنٹ کے بنائے قانون کا جائزہ لے سکتی ہیں کہ قانون آئین کے مطابق درست ہے یا نہیں،آئین بنانے کے ماہرین نے 1973 کا آئین بنا دیا،پھر کچھ لوگ ٹہلتے ہوئے آئے کہا ایسی چیزیں آئین میں ڈال دیں کہ سر نہ اٹھا سکیں،کہا گیا جس کو چاہیں نااہل کر دیں،صحیح یا غلط 62 ون ایف میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا
چیف جسٹس قاضی فائز عسسی کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ لارجر بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے سابق جسٹس عمر عطا بندیال کے سمیع اللہ بلوچ کیس فیصلے پر سوالات اٹھا دیئے،کہا کہ خاکوانی کیس میں سات رکنی بینچ تھا،سمیع اللہ بلوچ میں پانچ رکنی بینچ تھا، بنچ نے کہا یہ معاملہ لارجر بینچ دیکھے گا، لیکن بعد میں پانچ رکنی بینچ نے سمیع اللہ بلوچ کیس میں اس پر اپنا فیصلہ کیسے دیا؟ یا تو ہم کہیں سپریم کورٹ ججز کا احترام کرنا ہے یا کہیں نہیں کرنا، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے خاکوانی کیس میں بھاری نوٹ لکھا، میں اس نوٹ سے اختلاف کر نہیں پا رہا، جسٹس کھوسہ نے کہا ہم اس معاملے پر کچھ نہیں کر سکتے،
وقفے کے بعد اٹارنی جنرل منصور اعوان نےدلالئل جاریرکھتے ہوئے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں تاحیات نااہلی کا فیصلہ درست نہیں۔سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں آئین کی تشریح غلط کی ہے۔سمیع اللہ بلوچ کیس میں سول مقدمے میں سزاسنائی گئی،میرے خیال میں فوجداری معاملے میں بھی سزا ہوسکتی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا سمیع اللہ بلوچ کیس نے سیاستدانوں کو حاصل شیلڈ چھین لی،آرٹیکل 62 ون ایف میں ترمیم آئین کے ساتھ 1985 میں ہونے والے جبر کے نتیجے میں ہوئی،17 رکنی فل کورٹ نے مبشر حسن کیس میں کہا کہ آرٹیکل 62 اکیلا پڑھا جائے تو سزا نہیں ہو سکتی
چیف جسٹس نے کہا اگر یہ 17 ججز کا فیصلہ تھا تو پھر سمیع اللہ بلوچ کا پانچ ججز نے فیصلہ کیسے دے دیا؟
اگر ہم فل کورٹ بھی بیٹھ کر فیصلہ کریں تو مبشر حسن کیس فیصلے کو بدل نہیں سکتے،اس پر اٹارنی جنرل بولےعدالت کو یہ معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑ دینا چاہیے،
سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین پیش ہوئے کہا میں تحریک انصاف کے وکیل کے طور پر کچھ کہنا چاہتا ہوں،چیف جسٹس نےشعیب شاہین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ہم تو انتظار میں تھے کہ کوئی سیاسی جماعت آئے،
جسٹس جمال مندوخیل بولےبڑی دیر کر دی مہربان آتے آتے،
شعیب شاہین نے کہا الیکشن ایکٹ میں ترمیم فرد واحد کیلئے کی گئی،پارلیمنٹ نے فرد واحد کیلئے ترمیم کر کے سپریم کورٹ کی 62 ون ایف کی تشریح غیر موثر کر دی ،چیف جسٹس نے جواب میں کہا ہم نے تو الیکشن ایکٹ نہیں دیکھا ہم اپنا فیصلہ دیکھ رہے ہیں، الیکشن ایکٹ کو چیلنج کریں تو اسے بھی دیکھ لیں گے،چیف جسٹس نے نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا آج تو نہیں مگر جلدی مختصر فیصلہ سنائیں گے

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.