vni.global
Viral News International

سپریم کورٹ میں سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی کے کیس کی سماعت

اگر 2002 میں قائداعظم ہوتے تو وہ بھی نااہل ہوتے، چیف جسٹس کے ریمارکس

سپریم کورٹ میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی سے متعلق کیس میں عدالت نے سوال اٹھایا کہ کسی شخص کو ایک بار سزا مل گئی تو بات ختم کیوں نہیں ہوجاتی؟

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں 7 رکنی لارجربینچ نے کیس کی سماعت کی

یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ سزا کے بعد کبھی انتخابات نہ لڑسکے؟ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ججز کو گھر بھیجنے والا اور آٸین شکنی کرنے والا کیا اچھے کردار کا ہوسکتا ہے؟کیا آٸین شکن کو سزا آخرت میں ہوگی؟ اگر 2002 میں قائداعظم ہوتے تو وہ بھی نااہل ہوتے

چیف جسٹس نے پوچھا کہ اٹارنی جنرل، آپ کا مؤقف کیا ہے؟ الیکشن ایکٹ چلنا چاہیے یاسپریم کورٹ کے فیصلے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت سے درخواست ہے کہ تاحیات نااہلی کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لے جب کہ الیکشن ایکٹ کی تائید کروں گا کیونکہ یہ وفاق کا بنایا گیا قانون ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کی تشریح کے فیصلےکا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔

میربادشاہ قیصرانی کے خلاف درخواست گزارکے وکیل ثاقب جیلانی نے بھی تاحیات نااہلی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے 2018 میں درخواست دائرکی جب 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا فیصلہ آیا، اب الیکشن ایکٹ میں سیکشن232 شامل ہوچکا ہے، الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 آنے پرتاحیات نااہلی کی حد تک استدعا کی پیروی نہیں کررہا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا الیکشن ایکٹ کی ترمیم کو کسی نے چیلنج کیا؟ تمام ایڈووکیٹ جنرلز اٹارنی جنرل کے مؤقف کی تائید کرتے ہیں یا مخالفت؟ چیف جسٹس کے پوچھنے پر تمام ایڈووکیٹ جنرلز نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کی اٹارنی جنرل کے مؤقف کی تائید کردی۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ آرٹیکل 62 اور63 میں فرق کیا ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 62 ممبران کی اہلیت جب کہ 63 نااہلی سے متعلق ہے، آرٹیکل62 میں نااہلی کی مدت درج نہیں بلکہ یہ عدالت نے دی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب تک عدالتی فیصلے موجود ہیں تاحیات نااہلی کی ڈکلیئریشن اپنی جگہ قائم ہے، اس پر جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ الیکشن ایکٹ بھی تو لاگو ہوچکا اور اس کو چیلنج بھی نہیں کیا گیا۔جسٹس منصور نے سوال کیا کہ سوال یہ ہےکہ کیا ذیلی آئینی قانون سازی سے آئین میں ردوبدل ممکن ہے؟ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے کو ختم کرنے کیلئے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی؟ کیا آئین میں جو لکھا ہے اسے قانونی سازی سے بدلا جاسکتا ہے؟ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ سزا کاٹ لینے کے بعد بھی کبھی انتخابات نہ لڑسکے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا کوئی شخص حلفیہ طورپرکہہ سکتا ہے کہ وہ اچھے کردارکا مالک ہے؟ اگر 2002ء میں قائد اعظم ہوتے تو وہ بھی نااہل ہوتے۔ جس فوجی آمر نے 1985 میں آئین کو روندا ، اسی نے آرٹیکل 62 اور 63 کو آئین میں شامل کیا۔ ایک مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کیسے آئین میں اہلیت کا معیار مقرر کرسکتا ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جب غیر منتحب لوگ قوانین بنائیں گے تو ایسے ہی ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس سے یہ تاثرنہ لیا جائےکہ عدالت کسی مخصوص جماعت کی حمایت کررہی ہے، ایک آئینی مسئلہ ہے جس کو ایک ہی بار حل کرنے جارہے ہیں، مشاورت کے بعد عدالتی معاون بھی مقرر کرینگے۔ سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی سے متعلق کیس 4 جنوری تک ملتوی کردیا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.