vni.global
Viral News International

دھرنا کیس کو مختلف حکومتوں نے پانچ سال تک نظرانداز کیا،سپریم کورٹ

ماضی کے پرتشدد واقعات میں کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا جس کاخمیازہ قوم نے نو مٸی واقعات کی صورت میں بھگتا

سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس میں 15 نومبر کی عدالتی کارروائی کا تحریری حکمنامہ جاری  کردیا ہے ،جس میں کہا گیا ہے کہ نظر ثانی درخواستوں کو ماضی کے تین چیف جسٹس صاحبان نے سماعت کیلیے مقرر ہی نہیں کیا

حکمنامے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ 6 فروری 2019 کو دیا، جس میں ماضی کے پر تشدد واقعات کا حوالہ دیکر مستقبل کیلئے وارننگ دی گئی تھی، مگر تقریباً پانچ سال گزرنے کے باوجود حکومتوں نے فیض آباد دھرنا فیصلے پر عمل درآمد نہ کیا۔

تحریری حکم نامےکے مطابق  فیض آباد دھرنے کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی درخواستیں دائر تو ہوئیں مگر وہ سماعت کیلیے مقرر نہ ہوسکیں،’عدالتی عملے کے مطابق نظرثانی درخواستیں وقت فوقتاً مختلف چیف جسٹس صاحبان کے سامنے رکھی جاتی رہیں، تینوں ماضی کے چیف جسٹس صاحبان نے نظرثانی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کرنے کیلئے کوئی ہدایات نہیں دیں ،،عدالتی فیصلے کے تناظر میں کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور نہ ہی تشدد و احتجاج پر کسی کا احتساب ہوا، جس کے نتیجے میں نو مئی کو پیش آنے والے واقعات دیکھنے پڑے۔

حکم نامے میں شیخ رشید کی جانب سے نظر ثانی درخواست واپس لینے پر عدالت نے حیرانی کا اظہار کیا،، کہا گیا وفاقی حکومت نے انکوائری کمیشن تشکیل دیتے ہوے اسے دو ماہ کا ٹاسک دیا ہے،امید کرتے ہیں کہ کمیشن مقررہ وقت میں اپنا ٹاسک مکمل کرے گا،

تعجب ہے شیخ رشید جیسا سیاست دان جو طویل عرصہ تک رکن پارلیمنٹ رہا اسے غلط فہمی ہوگئی،تعجب ہے ایسا سیاست دان جو وفاقی وزیر جیسے اعلیٰ منصب پر فائز رہا اس نے غلطی فہمی کے سبب نظرثانی درخواست دائر کی، جبکہ عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ آخر شیخ رشید نے کس کے کہنے پر فیض آباد دھرنا کیس فیصلے پر نظر ثانی درخواست دائر کی تھی

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.