vni.global
Viral News International

تھر کا کوئلہ پٹرول بنانے کے لئے نہیں، صرف منہ کالا کرنے کے لئے ہے

کالم: محمد ذوالفقار پشاوری

پاکستانی کالم نویسوں میں جاوید چوہدری صاحب کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ پچھلے دنوں اِن کا ایک معلوماتی کالم ”ہم کوئلے سے پٹرول کیوں نہیں بناتے“ پڑھا اور اُن کی معصومیت پر حیران بھی ہوئے کہ کیا وہ یہ نہیں جانتے ہیں ہم نے پچھلے 75سالوں میں پہلے کیا بنایا ہے جو ہم اب کوئلے سے پٹرول بنائیں گے اور دوسرا کیا چوہدری صاحب یہاں ”بنا“جانے والوں کا انجام بھول گئے ہیں جسے یاد کر کے اب یہاں کوئی کچھ بنانے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔ یہاں اِن ”بنا“ جانے والی بڑی شخصیات میں سے پہلی سب سے بڑی شخصیت بانی پاکستان کی تھی جنہوں نے ایک خراب ایمبولینس میں زندگی کے آخری لمحات گزارے۔ دوسری شخصیت یہاں نیوکلیئرپروگرام کی بنیاد رکھنے والے اور تیسری شخصیت اس نیوکلیئر پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے والے کی تھی۔ چوہدری صاحب ملکوں ملکوں گھومتے ہیں۔ کوئلے سے پٹرول بنانے کی معلومات انہیں جنوبی افریقہ سے ملیں اور اپنے ملک میں انہیں ایسا کرنے کا خیال تھر کے کوئلے کے ذخائر یاد کر کے آیا ہو گا ان ذخائر سے گیس بنانے کے ایک منصوبے پر ہمارا ایک سائنسدا ن پہلے ہی عوام کا کافی پیسہ برباد کر چکا ہے۔ اگر ہمارے منصوبہ ساز وہ پیسہ وہاں برباد کرنے کی بجائے دیہات میں بائیو گیس پلانٹ پر خرچ کرتے تو بہت آسانی سے دودھ، گیس اور کھاد بہت کم وقت میں حاصل کر سکتے تھے۔
کوئلے کے حوالے سے ایک سبق آموز اور تلخ حقیقت حال ہی میں ہمارے سامنے آئی ہے۔ 2022؁ء میں ہماری حکومت کو کوئلے کی ضرورت پڑی تو ہماری حکومت نے وہ کوئلہ اپنے برادر ملک افغانستان سے خریدا ویسے تو افغانی ہمارے سگے بھائیوں سے بڑھ کر ہیں لیکن افغانی کاروبار میں بھائی چارے کے قائل نہیں۔ انہیں جیسے ہی ہماری ضرورت کا پتہ چلا تو انہوں نے اپنے کوئلے کی قیمت 3گنا بڑھا دی اور ہم نے وہ کوئلہ 3گنا زیادہ قیمت ادا کر کے حاصل کیا۔ افغانوں کا اِس بارے میں یہ بھی کہنا ہے کہ جو ملک اپنی گندم اور چینی پہلے سستی بیچ کر دوبارہ مہنگے داموں خریدتا ہے، اگر ہم نے اُن پر اپنا کوئلہ3گنا مہنگا بیچا تو کیا بُرا کیا جبکہ ہمارا مہنگا کوئلہ بھی انہیں دنیا سے سستا ملا ہے۔ پاکستان میں تھرکول پراجیکٹ کا افتتاح بے نظیر صاحبہ نے اپنے دور حکومت میں کیا تھا۔ اتنے سالوں میں اِس پراجیکٹ پر کچھوے کی رفتار سے کام کیوں کیا گیا۔ جس دن ہم نے اِن نالائقوں اور کام چوروں کو پکڑنے کا بندو بست کر لیا اُس دن اِس ملک کی قسمت بدل جائے گی۔ اس وقت تو تھر کا یہ کوئلہ منہ کالا کرنے کے لئے ہی استعمال ہو سکتا ہے۔ حیرانگی اور پریشانی کی بات ہے کہ جو ملک اپنے سونے کے ذخائر سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا وہ اور کس چیز سے فائدہ اُٹھائے گا۔ ریکوڈک اس کی زندہ مثال ہے۔
چوہدری صاحب نے دنیا دیکھی ہے۔ کیا انہوں نے کوئی ایسا ملک دیکھا ہے جہاں قانون سازی کے لئے پارلیمنٹ نام کا ادارہ تو موجود ہو لیکن اس ادارے کے حکمران قانون کی ”ق“ اور Lawکے ”L“ سے بھی واقفیت نا رکھتے ہوں۔ جہاں چالیس چالیس سال کی آزمائی ہوئی سیاسی جماعتیں اور اُن کے سیاسی قائدین ہر پانچ سال بعد کرپشن کے الزام میں ملک سے بھاگ جائیں اور ہر پانچ سال بعد ڈرائی کلین ہو کر دوبارہ اقتدار میں آجائیں۔ جہاں عدالتیں اور قانون تو موجود ہوں لیکن انصاف کا حصول اتنا طویل اور اتنا صبر آزما ہو کہ انصاف بے انصافی لگنے لگے۔ جہاں کے ارب پتی حکمران اپنی عوام کو فقیر بھی کہیں اور اِنہی کے ووٹوں سے حکمرانی کے مزے بھی لوٹیں۔ کیا اُن کے علم میں کوئی ایسا ملک ہے جہاں کے حکمران75سالوں میں اپنے علاج کے لئے ہسپتال نا بنا پائے ہوں اور بلڈ پریشر چیک کروانے بھی بیرون ملک جاتے ہوں اور جہاں عوام ایسے ہی حکمرانوں کو اپنے دکھوں کا علاج سمجھتے ہوں۔ چوہدری صاحب اگر آپکو دنیا میں کوئی ایسا مثالی ملک نہ ملے تو اپنی منجھی کے نیچے ڈانگ پھیریں مل ہی جائے گا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.