vni.global
Viral News International

بپر جوائے کراچی سے 420 کلو میٹر دور، شہر میں گرد آلود ہوائیں چلنے لگیں

سمندری طوفان بپر جوائے کراچی کے جنوب کی جانب گامزن ہے جس کے اثرات شہر میں نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔

سمندری طوفان کی تباہی اور جانی نقصان سے بچنے کےلیے سول انتظامیہ اور فوج پوری طرح حرکت میں آگئے۔

طوفان کے پیش نظر ٹھٹہ بدین اور سجاول سمیت ساحلی پٹی سے انخلا تیز کردیا گیا ہے، طوفان کی آمد سے قبل 90 ہزار افراد کا انخلا مکمل کرنے کا ٹارگٹ ہے جس کے باعث کیٹی بندر شہر خالی کرایا جارہا ہے جب کہ  بدین اور سجاول سے بھی متاثرین کی ریلیف کیمپوں میں منتقلی کی جارہی ہے۔

کراچی کینٹ، بدین اور حیدرآباد سے پاک فوج کے دستے امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے ساحلی علاقوں میں بھیجے گئے ہیں جب کہ میرین سکیورٹی، رینجرز اور منتخب نمائندے ساحلی پٹیوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرانے میں مصروف ہیں۔

محکمہ موسمیات کےمطابق بپرجوئے 6گھنٹوں کےدوران شمال اور شمال مغرب کی جانب بڑھ رہا ہے جب کہ سمندری طوفان کراچی کے جنوب سے 410کلومیٹر اور ٹھٹہ کے جنوب سے 400کلومیٹر دور ہے۔

محکمہ موسمیات کا بتانا ہےکہ شمال مشرق میں انتہائی شدید سمندری طوفان ساحلی علاقوں سے مزیدقریب آگیا ہے، طوفان کے مرکز میں ہواؤں کی رفتار 150 سے 160کلو میٹرفی گھنٹہ ہے جب کہ طوفان کے مرکز میں ہواؤں کے جھکڑ 180 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار کو چھورہے ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سسٹم کے مرکز کے اطراف سمندر میں شدید طغیانی ہے اور  مرکز کے گرد لہریں 30 فٹ تک بلند ہو رہی ہیں جب کہ سازگار ماحول سسٹم کو کو شدت برقرار رکھنے میں مدد کررہا ہے۔

سمندری طوفان کے اثرات بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، کراچی، ٹھٹہ، بدین اور دیگر علاقوں میں شدید حبس ہے جب کہ  کراچی کی ساحلی بستی چشمہ گوٹھ میں پانی سڑک کنارے تک پہنچ گیا ہے۔

اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طوفان بپر جوائے کے باعث 13 جون سہ پہر ساڑھے 4 بجے کس علاقے میں بارش ہو رہی ہے۔ فوٹو :جیو نیوز

ساحلی علاقوں میں سمندر کی سطح بلند

ممکنہ سمندری طوفان بپر جوائے کے پیش نظر کراچی کے ساحلی علاقوں میں سمندر کے پانی کی سطح میں اضافہ ہوگیا۔

چشمہ گوٹھ میں سمندر کے پانی میں مسلسل اضافے کے پیش نظر پانی چشمہ گوٹھ کی سڑک کنارے تک پہنچ گیا اور دوسری جانب رہائشیوں نے تاحال گھر خالی نہیں کیے ہیں۔

اس حوالے سے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے ایک ماہی گیر نے بتایا کہ ریڑھی گوٹھ جیٹی میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوجاتا ہے، شام کے اوقات میں جیٹی کا کچھ حصہ زیر آب آجاتا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ٹھٹہ، سجاول، بدین، تھرپاکر، عمرکوٹ میں آج سے17جون تک بارش متوقع ہے جب کہ اس دوران ہواؤں کی رفتار 80 سے 100 اور کبھی 120کلومیٹر فی گھنٹہ رہ سکتی ہے۔

اس کے علاوہ حیدرآباد، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار اور میرپورخاص میں  14 سے 16 کے درمیان آندھی اور گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش متوقع ہے جب کہ حب اور لسبیلہ میں بھی  14 سے16جون تک گردآلود ہواؤں اور تیزبارش کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کا بتانا ہےکہ تیز ہوائیں کمزور عمارتوں اورکچے مکانات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، طوفان کے دوران کیٹی بندر اور اطراف لہریں 8 سے 12 فٹ بلند ہوسکتی ہیں جب کہ سندھ کی ساحلی پٹی پر لہریں 2 سے 2.5 میٹر تک بلند رہ سکتی ہیں، اسی طرح  بلوچستان کی ساحلی پٹی پر لہریں 2 میٹر بلند ہوسکتی ہیں۔

دوسری جانب کورکمانڈرکراچی نے سمندری طوفان سے متعلق اقدامات پر رات گئے بدین میں ہنگامی اجلاس بلایا جس میں  ڈی جی رینجرز سندھ اور جی او سی حیدرآباد سمیت فوجی اور سول اداروں کے ذمہ داران نے کی شرکت، اجلاس میں کورکمانڈرکراچی کو بریفنگ دی گئی۔

کور کمانڈر کراچی  نے بروقت تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی صورت عوام کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔

کورکمانڈرکراچی کی ہدایت پر ممکنہ خطرے سے نمٹنےکیلئے تمام وسائل بروئے کارلائے جائیں گے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.