vni.global
Viral News International

ایون فیلڈ مقدمے کے فیصلے کے بعد کیا نیب جیسے اداروں کو قائم رہنا چاہیے؟

کالم:محمد ذوالفقارپشاوری

آپ پی ٹی وی کو چھوڑ کر کوئی پاکستانی نجی ٹی وی چینل لگا لیں اُن میں آپ کو زیادہ خبریں پاکستانی سیاستدانوں کی کرپشن اور اُن پرچلنے والے مقدمات کی ملیں گی۔ جن کی سماعتیں پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں میں تقریباً روزانہ ہوتی ہیں۔ سیاستدانوں پر کرپشن کے یہ مقدمے پاکستان کے اینٹی کرپشن کے ادارے بناتے ہیں اور انکوائری کے بعد فیصلوں کے لئے عدالتوں میں پیش کردیتے ہیں۔ نیب بھی ایک اینٹی کرپشن کا ادارہ ہے جسے جنرل مشرف کے دور میں پیپلز پارٹی میں سے پیٹریاٹ کا ایک گروپ بنانے اور اپنی مرضی کا وزیر اعظم لانے کے لئے بنایا گیا تھا۔ مشرف صاحب کے بعد ن لیگ اور پیپلز پارٹی بھی اس ادارے کو ایسے ہی مقاصد کے لئے استعمال کرتی رہیں۔ پانامہ کے ہنگامے میں جب شریف خاندان کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس منظر عام پر آئے اور ان کے بارے میں مریم نواز صاحبہ اور حسن نواز صاحب سے سوال پوچھے گئے تو مریم نواز نے فرمایا تھا کہ اُنکی بیرون ملک تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں ہے۔ بعد میں انہوں نے بیرون ملک جائیداد تو تسلیم نہ کی لیکن الحمدللہ کہہ کر پاکستان میں ایک ارب روپے کی جائیدادیں تسلیم کر لیں۔ حسن نواز صاحب نے بھی پہلے استغفراللہ کہہ کر بیرون ملک جائیدادوں سے انکار کیا پھر الحمدللہ کہہ کر انہیں تسلیم کر لیا۔ یہ وہی طرز عمل تھا جو پہلے پیپلز پارٹی نے اختیار کیا تھا۔ وہ پہلے سرئے محل کی ملکیت سے انکار کرتے رہے۔ بعد میں وہی سرئے محل زرداری صاحب نے فروخت کر کے رقم جیب میں ڈال لی تھی۔
ن لیگ کے بُرے دن آئے تو نیب نے ایون فیلڈ ریفرنس کے ذریعے نواز شریف صاحب اور مریم نواز صاحبہ کو 10سال اور7سال کی سزا دلوا کر سیاست سے نا اہل کروا دیا۔ بعد میں یہی مقدمہ جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوا اور ستمبر2022کے آخر میں اس کا فیصلہ ہوا تو معزز عدالت نے مریم نواز صاحبہ کو باعزت بری کر دیا جس کی وجہ نیب کی طرف سے پیش کیے جانے والے ناکافی ثبوت تھے۔ دوران مقدمہ بینچ کے دونوں جسٹس صاحبان جناب محسن اختر کیانی صاحب اور جناب عمر فاروق صاحب نیب پراسیکیوٹر سے سوال کرتے اور ثبوت مانگتے رہے لیکن ان سوالات کے جواب میں نیب پراسیکیوٹر زیادہ تر خاموش رہے جس پر جسٹس عمر فاروق صاحب نے یہ ریمارکس دیے کہ ”آپ اپنا مقدمہ صحیح پیش نہیں کر سکے“۔
ہمارے ایک وکیل دوست کی رائے کے مطابق اگر نیب پراسیکیوٹر کی تھوڑی سے بھی تیاری ہوتی توہ وہ پہلے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتا اور پھر کہتا کہ جناب والا اگر یہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس نواز شریف اور مریم صاحبہ کے نہیں ہیں تو کیا وہ سعودی حکومت کے سرور پیلس کی طرح حکومت برطانیہ کا شلٹر ہوم ہیں۔ جنہیں 92-93 سے شریف فیملی استعمال کر رہی ہے اور آج بھی نواز شریف صاحب کئی سال سے اِن اپارٹمنٹس میں ہی رہائش پذیر ہیں اور کاروبار اور کاروبارِ سیاست چلا رہے ہیں۔
ایون فیلڈ مقدمے کے فیصلے کے بعد نیب جیسے اداروں پر ایک مرتبہ پھر بہت سے سوالات اُٹھ رہے ہیں، اس میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیب اپنا مقدمہ کیوں ٹھیک سے پیش نہیں کر سکی۔ نیب پراسیکیوٹر زیادہ تر خاموش کیوں رہا اور نیب ایسے کمزور مقدمے بناتی ہی کیوں ہے جنہیں وہ عدالتوں میں ثابت نہیں کر سکتی۔ عوام کی نظرمیں ان تمام سوالوں کا ایک ہی جواب ہے کہ نیب جیسے اداروں کو ختم کر دیا جائے۔ اِس سے اور کچھ ہو نا ہو عوام کے ٹیکس کے پیسوں کی وہ رقم تو بچ جائے گی جو اِن اداروں پر خرچ ہوتی ہے۔ کیا آج تک کسی نے یہ حساب لگایا ہے کہ نیب کے بنائے ہوئے اِن بے نتیجہ مقدموں پر عوام کا کتنا پیسہ ضائع ہو چکا ہے اور معزز اعلیٰ عدالتوں کا کتنا وقت برباد ہوا ہے۔ اگر معزز عدالتیں اپنا یہی قیمتی وقت عوام کے مقدمات پر صَرف کرتیں تو عدالتوں پر پڑا مقدمات کا بوجھ کم ہوتا۔
رہ گئے حکمران اور سیاستدان، تو وہ کسی حال میں خوش نہیں ہوتے۔ حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے مریم نواز صاحبہ کو ایون فیلڈ اور عمران خان صاحب کو توہین عدالت کیس سے بریت ملی ہے لیکن دونوں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلوں سے ناخوش ہیں۔ مریم نواز صاحبہ کی پارٹی عمران خان صاحب کی بریت پر نکتہ چینی کر رہی ہے جبکہ عمران خان صاحب کی پارٹی مریم صاحبہ کی بریت میں میم میخیں نکال رہی ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے تقریباً تمام حکمران اور تمام سیاستدان عدالتوں سے اپنی مرضی کے فیصلے چاہتے ہیں اور باقی قومی اداروں کو اپنی مرضی سے چلانا چاہتے ہیں۔
اب ایک مرتبہ پھر نیب کے کسی شخص پر پچاس ہزار روپے سے کم مقدمے کو خارج کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان نے نیب پراسیکیوٹر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیب 6ارب کی کرپشن پر تو کلین چِٹ دے دیتی ہے اور پچاس ہزار سے کم کے مقدمے کے لئے عدالت کا ٹائم برباد کرنے آجاتی ہے۔ اس قسم کے سخت ریمارکس سپریم کورٹ نیب کے بارے میں پہلے بھی دے چکی ہے۔ نا جانے کیوں سپریم کورٹ اس بارے میں کوئی سخت مؤقف اختیار نہیں کرتی۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.